عورت کے نام

تجھ کو معلوم یہ شاید نہیں ہم صنف مری
اک تماشا بنا دنیا میں تیرا ہے یہ وجود
بات جینے کی ہو یا بات ہو مر جانے کی
بات کوئی جب ہو تُو ہے وہی پابندِ حدود

تجھ کو مغرب سے ملا کیا فقط رسوائی کے
جھوٹے وعدوں کی ردا چھین کے عزت ہے ملی
اک تلخ دھوپ کے سائیوں نے جھلسایا جسے
تیری کاوش کا صلہ ہے وہی ذلت کی کلی

اور مشرق نے روایات کی چادر لے کر
تیرے سانسوں سے بھی چھینا ہے حقِ خودداری
شرم کے نام پہ خود اپنی حقیقت تُو نے
رشتوں کے، جذبوں کے، چاہت کے آگے ہاری

یہ گلہ تجھ سے نہیں تُو نے نبھائی کیوں وفا
میں تیرے ظرف پہ مرعوب ہوں پشیماں بھی
تیرے ایثار کا بدلہ ہے ملا کیا تجھ کو
بدلے چاہت کے حقارت کی سلیبیں ہیں ملی

تُو نے خود اپنا لہو دے کہ سینچا جن کو
تیرا سودا بھی تو سدیوں سے تو کِیا ہے اس نے
خوش رہی تُو کہ تیرے قدموں میں جنت ہو گی
اور قدموں کے تلے روند ہے ڈالا اُس نے

تیرے احساس کی آواز دبانے کے لئے
جھانجھریں پاؤں میں اور ہاتھ میں کنگن ہے پڑا
تُو اگر بھول کہ اک قدم اٹھانا چاہے
سامنے ذلت و رسوائی کا بازار کھڑا

جس جگہ آج تُو الجھی ہے کڑی الجھن میں
تیرا پیکر فقط اک بھُلی کہانی ہے یہاں
حکمت و عمل کا میزان اٹھا کر اک دن
تجھ کو خود اپنی روایات بنانی ہیں وہاں


Article written by

One Response

  1. Harib Ali at | | Reply

    Excellent piece, Huma.

Please comment with your real name using good manners.

Leave a Reply